سر تاج
معنی
١ - ممتاز، اعلٰی، بہترین (شخص یا چیز)، موجب افتخار۔ "ادب میں اور بہت سی تصنیفات ہیں لیکن سب کی سرتاج کتاب العمدہ ہے۔" ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ٣٠:٢ ) ١ - آقا، سردار، مالک۔ "شعر کا سرتاج غالب پرانے زمانے کا آدمی تھا۔" ( ١٩٣٦ء، ریاض، نثر ریاض خیر آبادی، ٩٣ ) ٢ - شوہر نیز شوہر سے خطاب کا کلمہ۔ "عورت کی قسمت وہی ہے جو اس کے سرتاج کی۔" ( ١٩٦١ء، سراج الدولہ (ترجمہ)، ٨٩ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'سر' کے ساتھ عربی زبان سے ماخوذ اسم 'تاج' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ممتاز، اعلٰی، بہترین (شخص یا چیز)، موجب افتخار۔ "ادب میں اور بہت سی تصنیفات ہیں لیکن سب کی سرتاج کتاب العمدہ ہے۔" ( ١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ٣٠:٢ ) ١ - آقا، سردار، مالک۔ "شعر کا سرتاج غالب پرانے زمانے کا آدمی تھا۔" ( ١٩٣٦ء، ریاض، نثر ریاض خیر آبادی، ٩٣ ) ٢ - شوہر نیز شوہر سے خطاب کا کلمہ۔ "عورت کی قسمت وہی ہے جو اس کے سرتاج کی۔" ( ١٩٦١ء، سراج الدولہ (ترجمہ)، ٨٩ )